شیطان

زمانہ نوح میں ایک مرتبہ شیطان اپنے کئے پر بہت پچھتایا ،حضرت نوح علیہ السلام نے سبب پوچھا :تو اس نے خواہش کی کہ مجھے توبہ کی تلقین کیجئے ۔۔۔حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا :’’کہ اگر در حقیقت یہی ارادہ ہے تو حضرت آدم علیہ السلام کی قبر پر سجدہ کر۔۔‘‘شیطان نے بر جستہ جواب دیا :’’واہ حضرت !جب میں نے زندہ کو سجدہ نہ کیا تو قبر کو کہاں سجدہ کروں گا۔۔؟بحوالہ چمنستان ظرافت خدا کا شکر ادا کرومیں پیٹرول سٹیشنسے ہائی وے پر چڑھ رہا تھا کہ میں نے ایکسیلیریٹر پر پاؤں رکھا لیکن اللہ جانے کیسے

ایکسیلیریٹر دبا اور نہ ہی میری گاڑی آگے بڑھی۔ میں نے نیچے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا توایک آن میں ایک ٹرک ساٹھ میل پر آور کی رفتار سے میرے بالکل ساتھ سے گزرا اور میرے دل میں فورا یہ خیال گزرا کہ اگر دو سیکنڈ پہلے میرا ایکسیلیریٹر دب جاتا اور میں ہائی وے پر چڑھ گیا ہوتا تو اس وقت میری گاڑی کے پر خچے اڑ گئے ہوتے۔ ٹرک اتنی تیز رفتار سے آرہا تھا اور میری چھوٹی سی گاڑی اس سے ٹکرا جاتی تو میں اور میری گاڑی دونوں کا نام و نشان نہیں بچنا تھا۔ میرا دل بہت تیز تیز دھڑک رہا تھا اور میں بار بار سوچ رہا تھا کہ کیسے ایک لمحے میں میری موت مجھے آتے آتے رہ گئی تھی۔میں کافی دیر شاک کی حالت میں ادھر ہی گاڑی روک کر بیٹھا رہا۔مجھے رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ میرا اس دنیا میں وقت ابھی پورا نہیں ہوا تھا لیکن شاید اللہ نے مجھے اتنا زور سے اس لیے جھنجھوڑا تھا تا کہ میں اپنی زندگی گزارنے کا موقف بدل دوں اور میرا اس دنیا میں ابھی کام ختم نہیں ہوا تھا۔ میں پچھلی رات ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سو سکا تھا اور میرا آج کا دن بہت برا گزر رہا تھا۔ جب یہ معجزہ ہوا تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں اپنی پریشانیوں میں اتنا گھرا ہوا تھا کہ میں زندگی جیسی انمول نعمت کا شکر ادا کرنا بھی بھول گیا تھا۔میری سوچ یہ ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو کسی اہم مقصد کے لیے بنایا ہے اور ہر ایک کو اپنا مقصد پورا کر کے ادھر سے کوچ کر جانا ہے۔ میرا مقصد ابھی پورا نہیں ہوا تھا، میرے کام ادھورے تھے .شاید اسی لیے میں ابھی تک زندہ تھا۔ در اصل ہم سب کے کام ابھی تک ادھورے ہیں اور اسی لیے ہم اس دنیا میں موجود ہیں، جو جو اپنا کام نمٹا لیتا ہے، اس کا وقت آجاتا ہے اور وہ اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔ میرے دن ابھی باقی تھے، لوگوں میں ابھی اور خوشیاں بانٹنی تھیں، دوستوں میں اور رونقیں بانٹنی تھیں، دنیا کو ایک بہتر رہنے کی جگہ بنانا تھا اور کچھ کر کے دکھانا تھا۔ جس دن میں نے کچھ کر کے دکھا دیا، میرا بھی ادھر سے وقت پورا ہو جائے گا اوراس دن میرا پاؤں ایکسیلیریٹر سے نہیں پھسلے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *